پشاور کی زرعی یونیورسٹی پر دہشتگردوں کا حملہ، 9 افراد شہید، 30 زخمی


خیبر پختونخوا (24 نیوز): پشاور کی زرعی یونیورسٹی کے ریسرچ سنٹر پر دہشتگردوں کے حملے میں 9 افراد شہید اور 24 نیوز چینل کے رپورٹر سمیت 30 سے زائد افراد زخمی ہوگئے، سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کر کے تمام حملہ آوروں کو جہنم واصل کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں زرعی یونیورسٹی کے ریسرچ سنٹر پر 3 نقاب پوش مسلح افراد نے حملہ کر دیا، فائرنگ سے 9 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد افراد  زخمی ہوگئے جن میں پاک فوج کے دوجوان اور 24 نیوز چینل کا رپورٹر رحم یوسفزئی اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں، جنہیں طبی امداد کیلئے خیبر ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا، یونیورسٹی کے ہوسٹل میں طلبا بھی  موجود ہ ہیں، فائرنگ سے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا، یونیورسٹی میں دھماکے کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور فوج کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی   اور یونیورسٹی روڈ کو ٹریفک کیلئے بھی بند کردیا جبکہ یونیورسٹی کے اطراف سیکیورٹی سخت کردی۔

 آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے یونیورسٹی پر حملہ کرنے والے تمام دہشتگردوں کو مار دیا، فائرنگ کا سلسلہ تھم گیا  اب کلیئر نس آپریشن جاری ہے۔

آئی جی خیبر پختونخوا نے بتایا  کہ یونیورسٹی پر حملہ کرنے والے 3 مسلح افراد رکشے میں آئے ہیں اور برقعہ پہن کر جامعہ میں داخل ہوئے ہیں، گولیاں لگنے سے زخمی ہونے والوں میں یونیورسٹی کے 2 ملازمین اور 2 طالبعلم شامل ہیں، چھٹی کے باعث ہاسٹل میں طالبعلموں کی تعداد کم ہے۔

صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے 24 نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی پر حملہ افسوسناک ہے، دہشت گرد ہمیشہ سافٹ ٹارگٹ کی تلاش میں رہتے ہیں۔

خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر سعود کا کہنا ہےکہ  فائرنگ سے زخمی ہونے والے 11 افراد کو یہاں لایا گیا ہے جن میں دو پاک فوج کے جوان ، ایک پولیس انسپکٹر ، ایک صحافی اور 7 طالبعلم شامل ہیں۔ 

زرعی یونیورسٹی کا شمار پاکستان کے بڑے تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے اور وہاں تقریبا7 ہزار طلبا زیرِ تعلیم ہیں۔

واضح رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع آرمی پبلک سکول پر دہشتگردوں  کے حملے میں  132 معصوم طلبا سمیت 141 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔