نیپرا میں ایک سال کے دوران 73 ارب سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

نیپرا میں ایک سال کے دوران 73 ارب سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف


اسلام آباد (24نیوز) پبلک اکاونٹس کمیٹی اجلاس میں نیپرا میں ایک سال کے دوران 73 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے, پی اے سی کو بتایا گیا کہ آئی پی پیز کو مکمل پیداواری صلاحیت پر نہ چلانے سے خزانے کو 28 ارب روپے کا نقصان ہوا جبکہ کے الیکٹرک نے بھی پاور پلانٹس کم صلاحیت پر چلائے اور 14 ارب روپے کا بوجھ صارفین پر ڈال دیا,خورشید شاہ نے حکومت پر تنقید کر دی ان کا کہنا تھا باقی کارکردگی صفر ہے صرف قرضے میں گروتھ بہت اچھی ہے۔

تفصیلات کے مطابق خورشید شاہ کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس میں پاور پلانٹس مکمل پیداواری صلاحیت پر نہ چلانے سے خزانے کو 28 ارب 18 کروڑ کے نقصان کا انکشاف کیا گیا، آئی پی پیز اور جینکوز نے تیل سستا ہونے کے باوجود پیداوار نہیں بڑھائی گئی، صارفین کو 12 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا، اپوزیشن لیڈر نے اظہار برہمی کرتے ہوئے حکومت کو تقید کا نشانہ بنایا کہا کہ حکومت کی کارکردگی ہر چیز میں صفر ہے انکی صرف قرضے میں گروتھ بہت اچھی ہے۔

پی اے سی کو بتایا گیا کہ کے الیکٹرک نے بھی کراچی میں بجلی کے صارفین پر 14.5 ارب کا اضافی بوجھ ڈال دیا، سینٹرل ہاور پرچیزنگ ایجنسی سے مہنگی بجلی خرید کر اضافی لاگت صارفین پر ڈالی گئی، عارف علوی نے کہا کہ اضافی بوجھ صارفین پر ڈالنا زیادتی ہے۔

سیکرٹری پاور ڈویژن یوسف نسیم کھوکھر نے بجلی کی صورت حال پر پی اے سی کو بریفننگ میں بتایا کہ ملک میں بجلی کا شارٹ فال زیرو ہے، پی اے سی اجلاس میں ایک بار پھر اوور بلنگ کا تزکرہ ہوا۔ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ بجلی صارفین پر ہر سال 200 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے، بجلی چوری، ترسیلی نقصانات کا مکمل بوجھ صارفین پر ڈالا جاتاہے, سیکرٹری پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ اوور بلنگ کے تدارک کیلئے قانون سازی کر لی گئی ۔